لیسکو صارفین اور ملازمین کی مشکلات ۔۔احکام متوجہ ہوں

1

تحریر۔۔۔ حسیب اعجاز عاشرؔ
اخبارات کی خبروں ،احکام بالا کے بیانات سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ مثبت اقدامات سے لیسکو بہتری کی جانب گامزن ہیں اور ایسے ہی موثر لوڈ مینجمنٹ سے لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ اچھے نتائج سے عوام کو قدرے ریلیف بھی ملا ہے ، کچھ پروجیکٹس کے آغازاور کچھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہونے کی بنیاد پر حکمران دعوی کر رہی ہے کہ ۲۱۰۸ تک لوڈ شیڈنگ کا بالکل خاتمہ ہو جائیگا،لائن لاسز کم ہو رہے ہیں ،بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے،واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جا رہاہے،بجلی کے نرخ کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے، صارفین کو زاہد یونٹس کے اضافی بوجھ سے بچانے کے لئے ریڈنگ کا عکس بھی بل پرنٹ کیا جا رہا ہے ،چوبیس گھنٹے دفاتر میں لیسکوملازمین کی یقینی حاضری ممکن بنائی گئی ہے۔ مگر یہ تمام تسلی بخش بیانات یا اقدامات تصویر کا ایک رخ ہیں جبکہ دوسرے رُخ پر صارفین کے علاوہ لیسکو کے ملازمین کو بھی کئی تکلیف دہ مشکلات کا سامنا ہے اور یہ ایسے باریک اور تکنیکی معاملات ہیں جن کا کسی پلیٹ فورم پر تذکرہ ہی نہیں اور نہ ہی کوئی شنوائی ہے ۔انہیں مشکلات و شکایات کے ازالے کے لئے احکامِ بالا کی اِس تحریر کیطرف توجہ درکار ہے
جہاں لائن لاسز میں کمی لانے کے لئے اور واجبات کی صارفین سے وصولی کو یقینی بنانے کے لئے واپڈا احکام نے بجلی کی تقسیم کار کمپیینوں میں جدید طریقے متعارف کروائے ہیں وہاں لائن لاسز اور ریکویری کے عداد و شمار کو تسلی بخش ظاہر کرنے کے لئے کمپنیوں کے تمام دفاتر میں پراونے فرسودہ طریقے بدستور قائم ہیں
چونکہ گھریلو صارفین کی طرح تصاویر کے ذریعے ریڈینگ کا طریقہ کار صنعتی صارفین کے لئے موجود نہیں ہے اس لئے بجلی چوری کی وجہ سے پیدا ہونے والے لائن لاسز میں کمی لانے کے لئے لیسکو میں بڑے پیمانے پر صنعتی صارفین کو زاید یونٹ کے بل ڈال کر بھیجے جا رہے ہیں لیسکو کی ویب سائیٹ پر MIS Report پر رننگ صنعتی ڈیفالٹر صارفین جن کی طرف واجبات کئی ماہ واجب الادا ہیں انکے بل پر زائد یونٹ کے سٹروک باآسانی دیکھے جا سکتے ہیں بعض صارفین کو ڈیفالٹر لسٹ CP 114 سے نکالنے کے لئے بل کی تصیح کرنے کے بجائے سب ڈویژن کی سطح پر متعلقہ اہلکاروں نے انکی بلنگ بند کروا کر P- Disc صارفین میں شامل کر دیا ہے ۔ جبکہ یہ انڈسٹریل میٹر موقع پر چل رہے ہیں اور لیسکو انتظامیہ کے دباؤ پر اکثر صارفین کے میٹروں پر ریڈنگ زائد ہونے کے باوجود میٹر کاٹ لئے گئے ہیں ۔
ایسے صنعتی صارفین جن کے ڈیفیکٹو میٹر تبدیل کر دیئے گئے تھے لیکن P- Disc لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے نئے میٹر پر وصول ہونے والی پنڈنگ ریڈنگ صارف کو چارج نہیں کی جا سکتی جس کا لائن لاسز پر برا اثر پڑ رہا ہے اور میٹر بحالی کے لئے RCOفیس کے بوجھ کو بھی صارفین پر ڈال دیا گیا ہے
زائد یونٹ کے سٹروک اکثر ان صارفین کو لگائے جاتے ہیں ۔جن کے میٹرکی ریڈنگ LCD Display پرفنی طور پر غائب ہو جاتی ہے، کیونکہ ایسے صارفین کے میٹر پر ریڈنگ نہ ہونے کے باعث بل کی تصیح نہیں کی جا سکتی بلکہ میٹر کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا جانا ضروری ہوتا ہے لیبارٹری سے نتائج کی وصولی کے لئے جدو جہد بھی صارفین کو خود کرنا پڑتی ہے ۔ صارفین کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کے میٹر کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ ہونے کے باوجود بل درست کرنے کے بجائے سرکل آفس میں Pre-Audit کے لئے بھیج دیئے جاتے ہیں ۔ جہاں کئی اور اعتراضات لگا کر کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے جاتے ہیں
بہت سے صنعتی صارفین لیسکو کی تقریباً ہر سب ڈویژن میں ایسے بھی موجود ہیں جن کے بل پر لگائے گئے یونٹ کے سٹروک ہر ماہ تھوڑے تھوڑے کر کے بل سے نکالے جا رہے ہیں تا کہ معاملہ ڈویژن کی سطح پر حل ہو جائے اور سرکل آفس یا ہیڈ کوارٹر سے اپروول کی ضرورت باقی نہ رہے ۔اور بعض صارفین کو اقساط کر کے بل جمع کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے بصورت دیگر صارف کو ذاتی ٹرانسفارمر لگوانے کے لئے بھاری رقم کا ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ۔جبکہ آبادی کے ٹرانسفارمر پر نئے صنعتی کنکشن بھی لگائے جا رہے ہیں۔
حالات کے پیش نظر صارفین کے مختلف فورم پربڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر لیسکو انتظامیہ دانش مندی سے ٹیمیں تشکیل دے کر حال ہی میں ہونے والے P-Disc کنکشنز کو موقع پر چیک کروا کر میٹروں کے موقع پر موجود نہ ہونے کا سرٹیفیکٹ متعلقہ سب ڈویژنز کے ایس ڈی او حضرات سے بمعہ دستخظ وصول کر کے اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا چکی ہے ۔
گزشتہ کئی ماہ سے میٹروں کی عدم دستیابی کے باعث میٹر جلنے کی صورت میں صارفین کو شدید مشکلات کا سامناہے سپلائی کی فراہمی کو ناگزیر سمجھتے ہوئے ،جن صارفین کی سپلائی خود متعلقہ ایس ڈی او نے ڈیریکٹ بحال کروائی اور جہاں انکو ماہناہ اوسط یونٹ کا بل چارج کیا جانا تھا وہاں بجلی چوری کا ڈیٹکشن بل ڈال کر اپنے لائن لاسز پورے کئے جا رہے ہیں ،ایسے تمام صارفین جن کے کئی ماہ پہلے میٹر ڈیفکٹو کر کے تبدیل کئے جا چکے تھے انہیں بھی ڈیٹکشن بل ڈال دیا گیا ہے تا کہ لاسز میں کمی لائی جا سکے
میٹروں کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے آنے والی سردیوں ڈیفکٹو میٹرز کا تبدیل نہ کرنا بھی صرف محکمہ کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گا ۔کیونکہ موسم کے پیش نظر گھریلو صارفین کے بجلی کا استعمال کم ہونے کے باوجود گرمیوں کا اوسط بل وصول کر کے لاسز میں کمی لائے جا سکے گی اسی طرح سرکاری ٹیوب ویلز پر بھی زائد یونٹ چارج کر کے لاسز میں بہتری پیدا کرنے کا رواج بھی اب بھی موجود ہے
محکمے کے ملازمین افسرانِ بالا کے دباؤ کی وجہ سے اپنی ملازمت بچانے ،تبادلے کے خوف، سہولیات کی عدم دستیابی، عدم تحفظ اور ہراساں کئے جانے کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں ۔
صیح بجلی چوروں کی نشاندہی پر ان سے بل وصول کر کے لائن لاسز میں کمی لاممکن اس لئے بھی نہیں کیونکہ حیران کن پر کسی بھی سب ڈویژن میں محکمہ کی طرف سے M&T طرز کا تربیت یافتہ عملہ موجود ہی نہیں جب کہ لائن لاسز بڑھنے کی تمام تر ذمہ داری ایس ڈی او اور ریڈنگ سٹاف پر ڈال دی جاتی ہے ۔جبکہ ریڈنگ عملہ ٹیکنیکل سٹاف میں شمار بھی نہیں کیا جاتا ۔ہر دفتر میں ذاتی طور پر بجلی چوری پکڑنے میں دلچسپی لینے والے ایک دو اہلکار موجود ہوتے ہیں جن کا سہارا لے کر ڈسکریپنسی کی M&T کے عملے کو نشاندہی کرا دی جاتی ہے اور نشاندہی کے باوجود بجلی چوروں کو کیفرکردار تک پہنچانا آسان کام نہیں کیونکہ M&T کے بہت سے اہلکاروں کا بجلی چوری میں ملوث ہونا انتظامیہ کے ریکارڈ پر بھی موجود ہے
اگر ایس ڈی اور کے بجائے M&T سے لائن لاسز کی جواب طلبی کی جانے لگے اور M&T میں مزید تربیت یافتہ عملہ بھرتی کر کے ایک منصوبہ بندی کے تحت روزانہ کی بنیاد پر سب ڈویژن کی مستقل کومبنگ کرائی جانے لگے تو لائن لاسز میں واضح کمی کی امید متوقع ہے ۔
ٰٓایک طرف ریکوری کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے انتظامیہ تمام ڈیفالٹرز سے واجبات کی وصولی کے لئے آن لائن فہرستیں بلحاظ رقم ،مدت، نرخ، بیج آپ لوڈ کی جارہی ہیں تاکہ متعلقہ سب ڈویژن کا ریکوری سیکشن با آسانی ڈیفالٹر تک رسائی حاصل کر کے واجبات کی فوری وصولی یقینی بنائے جبکہ دوسری طرف سرکاری طور پر دفاتر میں نہ تو انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور نہ ہیڈ کوارٹر کی طرف سے انٹرنیٹ کی مد میں ماہانہ فنڈنگ کی جا رہی ہے ۔روایتی طریقہ جات کی وجہ سے ریکوری سیکشن اپنی مدد آپ کے تحت کام کی سرانجام دہی کے لئے ذاتی خرچے پر متعلقہ فہرستیں ریکوری کے لئے حاصل کر رہے ہیں۔
وزرات پانی و بجلی نے ملازمین کی کانٹ چھانٹ سے خوف و حراس کی فضا تو قائم کر رکھی ہے لیکن مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی سے بالکل توجہ نہیں دی جا رہی ۔جہاں صارفین کو مہنگی بجلی مہیا کی جارہی ہے وہاں بجلی کی خرابی کی صورت فوری بحالی کا کوئی نظام موجود ہی نہیں نہ تو سب ڈویژن میں حادثات سے بچنے کے لئے بکٹ والی گاڑیاں دستیاب ہیں اور نہ ہی انفرادی طور پر لائن مین کو سواریاں سرکاری سطح پر وعدوں کے مطابق مہیا کی گئیں ہیں ۔اور اپنا ذاتی موبائل بھی ذاتی خرچے پر آن رکھنے کا پابند ہے ۔
ٹرانسفارمر کی تبدیلی کے لئے جو کرین ہر ڈویژن میں موجو د ہے اُس پر صرف ایک ڈرائیور تعنیات کیا جاتاہے جس کے لئے چوبیس گھنٹے پورا ہفتہ ہر وقت ہر جگہ بوقت ضرورت پہنچنا ممکن ہی نہیں ٹرانسفارمر جلنے کی صورت متعلقہ ایل ایس کو جواب طلبی کی جاتی ہے جبکہ ٹرانسفارمر کو فالٹی حصے سے علیحدہ کرنے کیلئے ایل ٹی سائیڈ پر کہیں کوئی پروٹیکشن نہیں لگائی جاتی ٹرانسفارمر فیوز 11KV فیڈر کا بیک آپ پروٹیکشن ہے اور فیڈر کی ٹرپنگ سے حفاظت کے لئے لگائے جاتے ہیں ،علاوہ ازیں ٹرانسفارمر کی مائینر مرمت کے لئے محمکے کی طرف سے کوئی پالیسی موجود نہیں جبکہ سپلائی کی فوری بحالی کے لئے ذاتی خرچے پر ایل ایس حضرات کا پرائیویٹ طور پر ٹرانسفارمر کا یا ٹھیک کروانا نا گزیر ہو جاتا ہے ،بش ٹوٹنے کی صورت اندرونی ٹرمینل میں کاربن آنے کی صورت یا اندرونی طور پر ٹانکا ٹوٹنے کی صورت، آئل میں کمی یا نمی آنے کی صورت ،ہنگامی صورت حال سے بچنے کے لئے پرائیویٹ مکینک سے مرمت کروانے سے لیسکو کا ریونیو بڑے نقصان سے بچ بھی جاتا ہے ۔بصورت دیگر ٹرانسفارمر تبدیلی کے لئے محکمے سے قانونی طور پر وصولی کرنے اور ٹرانسفارمر واپس کرنے کے تمام مراحل نا صرف لیسکو افسران کی طرف سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں ،بلکہ شوکاز نوٹس کی تلوار سمیت مختلف سزائیں ،آڈٹ پیرے جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اِس لئے سپلائی کی فوری بحالی اور افسران کی طرف سے بے جا دباؤ سے بچنے کے لئے ایل ایس حضرات ٹرانسفارمر کو ٹو فیز کرنے ،لوڈ شفٹ کرنے، فیز شارٹ کرنے، جیسے عارضی طریقوں کا سہارا لے کر سب ڈویژن کو میڈیا کی خبر بننے سے بچا تو لیتے ہیں لیکن بعد میں ٹرانسفارمر کی مرمت یا تبدیلی کے لئے افسران بالا کی طرف سے کوئی تعاون نہیں کیا جاتا اس لئے ٹرانسفارمر کی کم خرچے پر مرمت کرنے کے لئے پرائیوئٹ مکینک ٹرانسفارمر کی جلی ہوئی کاپر وائینڈنگ نکال کر اُس کی جگہ سلور وائینڈنگ کا سہارا لیتے ہیں اورمالی فوائد کے پیش نظر کور میں بھی کمی کر دیتے ہیں ۔ایسی پرائیویٹ ورکشاپس کا تقریباً ہر صارف اپنی متعلقہ سب ڈویژن میں خود مشاہدہ کر سکتا ہے ۔متعدد بار ٹرانسفارمر کی پرائیویٹ مرمت کی دفاتر میں روک تھام کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتی رہی ہیں ،جبکہ ساتھ ساتھ ایل ایس حضرات کو خفیہ پرائیویٹ مرمت کے لئے بھی مجبور کیا جاتا رہا ہے ۔اِس لئے یہ ٹیمیں مسائل کے حل میں معاون ثابت ہونے کے بجائے ایل ایس حضرات پر مزید مالی اضافہ کے باعث بنتی رہی ہیں ۔اور ان ٹیموں کے ساتھ ساتھ نام نہاد صحافی بھی بلیک میل کر کے ایل ایس حضرات سے پیسے بٹورنے میں پیش پیش رہے ہیں ،دیگر کمپنیوں کی طرح اگر لیسکو میں بھی ٹرانسفارمر میں خرابی کی صورت متعلقہ دفتر کی اطلاع پر خود ریکلیمشن ورکشاپ کا عملہ موقع پر بذریعہ کرین ٹرانسفارمر مہیا کرے اور فالٹی ٹرانسفارمر مرمت کرنے کے لئے وصول کرنے لگے تو لیسکومیں ملازمین کے مسائل کے حل یہ مثبت پیش رفت ہو گی ۔اُمید ہے کہ احکامِ بالا توجہ دلا اِس تحریر کو نظرانداز نہیں کریں گے ایسے فی الفور مثبت اقدامات کریں گے کہ صارفین کے ساتھ ساتھ لیسکو ملازمین بھی سکھ کا سانس لیں گے ۔

Comments

comments