میں میکے خفا ہو کر چلی آئی

4

تحریر : افضال احمد
آج میں ایک بد نصیب عورت کا سچا واقعہ آپ سب سے شیئر کرنا چاہتا ہوں برائے مہربانی سب قارئین میرا ساتھ دیں تو سب غور سے سنیں اُس عورت کی زبانی جمعہ کی رات تھی بھائی اور والد صاحب کہیں کام گئے ہوئے تھے کہ اس رات میرے نصیب کا سیاہ پردہ ہٹ گیا، وہ اس طرح کہ آج کی رات میری پریشانیوں اور الجھنوں کی کوئی حد نہ تھی، طرح طرح کے خیالات ستا رہے تھے، دل میں بے چینی تھی کہ اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی۔خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ قیامت قائم ہو چکی ہے، سب مُردے زمین سے اُٹھ رہے ہیں اور میدان حشر میں جمع ہو رہے ہیں، سب کو اپنی اپنی زندگی کے حساب دینے کی فکر ہے۔ اچانک داہنی طرف دیکھا تو کچھ لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت کے محلات کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں خوشنما عالی شان باغات ہیں اور ان باغات میں طرح طرح کے رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کی لہریں چل رہی ہیں، بھینی بھینی خوش بو سے پورا ماحول معطر ہے۔ باغ میں ہر طرح کی آسائش و آرام کا سامان موجود ہے ،مردوں اور عورتوں کا ہجوم چاروں طرف سے خوشی و مسرت میں مست ہو کر اس باغ میں داخل ہو رہا ہے، میں بھی دوڑ کر اس دروازہ پر پہنچی میں نے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا اور جوں ہی اندر داخل ہونے کی غرض سے آگ بڑھی تو دربان نے مجھے روک لیا او رداخلہ کا اجازت نامہ طلب کیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا ارے داخلے کے لئے کیا ٹکٹ لینا پڑتا ہے؟ دربان! جی ہاں، بغیر ٹکٹ کے داخلہ ممنوع ہے اگر ٹکٹ موجود ہے تو ٹھیک ورنہ حساب کی لائن میں چلی جایئے۔اچھا ٹکٹ کتنے کا ملتا ہے؟ یہ کہہ کر میں نے بٹوے میں ہاتھ ڈالا۔ دربان نے کہا: محترمہ! یہ ٹکٹ پیسوں سے نہیں ملا کرتا۔ میں نے تعجب سے پوچھا: اس کے لئے پھر کس چیز کی ضرورت ہے؟ دربان نے کہا: مسلمان مرد کے لئے ماں باپ کی خوشی کا پروانہ چاہئے اور مسلمان عورت کیلئے اس کے خاوند کی خوشی کا پروانہ چاہئے، اس کے بغیر اس جنت میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔
کیا میرے ماں باپ کی خوشی کا پروانہ نہیں چل سکتا؟ میں نے حسرت بھری نگاہوں سے دربان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ نہیں! شادی شدہ عورت کے لئے تو اس کے خاوند کی رضا مندی اور خوشی کا پروانہ چاہئے ، یہ سن کر میں پریشان ہو گئی اور شرم کی وجہ سے میں پسینے میں ڈوب گئی، میری پشیمانی اور حسرت کی کوئی حد نہ رہی اور میں حسرت بھری نگاہوں سے اندر داخل ہونے والی عورتوں کو دیکھتی ہی رہ گئی، کتنی ہی میری سہیلیاں اور رشتہ دار عورتیں بے جھجک، بے حساب جنت میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ داخل ہو رہی تھیں اور میں کلیجہ تھام کر دیکھتی رہ گئی۔ خدایا! یہ کیسی میری بے عزتی ہے، اگر زمین جگہ دیتی تو میں اس میں سما جاتی، ایسی کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی کہ میری دو چار سہیلیوں کو مجھ پر رحم آیا، انہوں نے مجھے پکار کر کہا: زینب! اندر آجاؤ، ہم دربان سے کہہ دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مجھے لینے آگئیں ، مگر جب انہوں نے بھی میرے پاس میرے شوہر کی خوشی کا پروانہ نہ دیکھا تو مجھے چھوڑ کر افسوس کرتی ہوئی چلی گئیں اور سلمیٰ تو ویسے بھی بہت تیز تھی، اس نے تو مجھے وہیں کھری کھری سنا دی۔
دیکھا زینب! ہم تمہیں کہا نہیں کرتے تھے کہ دیکھو دنیا کی زندگی تو بہت تھوڑی ہے اس میں شوہر کو راضی رکھ کر چلو ورنہ موت کے بعد پچھتانا پڑے گا مگر زینب تم کبھی شوہر کی بات مانتی ہی نہ تھیں وہ تمہیں کتنا کہتے تھے کہ بے پردہ مت پھرو، کزنوں میں کھلے عام مت بیٹھو، شادیوں میں اپنی مووی مت بنواؤ، شرعی لباس پہنو‘ نمازوں کی قضا مت کرو اور مجھے اللہ کے راستے میں جانے سے مت روکو مگر تم نے ایک نہ سنی۔ میں وہیں پریشان ہو کر اپنی غلطیوں پر پچھتا رہی تھی کہ (کاش ! میرے پاس بھی اپنے خاوند کی خوشی کا پروانہ ہوتا تو آج میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح جنت میں جا کر بہاریں اور خوشیاں لوٹتی اور پشیمانی کا یہ دن مجھے دیکھنا نہ پڑتا)۔
اتنے میں میرے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا کہ ’’جگہ دو راستہ چھوڑو‘‘ وغیرہ کی آواز دی گئی ، میں نے سامنے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ایک خاتون کی سواری بڑے اعزاز سے آتی ہوئی نظر آئی، راہ گیر راستہ دینے لگے، سب جھک جھک کر سلام و آداب کرنے لگے، دربان بے حد ادب و احترام سے آداب بجا لایا، وہ خاتون سواری سے اتر کر سیدھی جنت میں چلی گئیں۔ میں نے دربان سے پوچھا: یہ محترم خاتون کون ہیں؟ دربان نے کہا یہ خاتون اپنے شوہر کی چاہنے والی ہیں، انہوں نے اپنے شوہر کی ایسی تابعداری اور فرماں برداری کی کہ ان کا شوہر ہر وقت ان کو دعائیں دینے لگا، صرف تھوڑا عرصہ خاوند کی خدمت کرکے یہ مرتبہ حاصل کیا ہے۔
دربان کی اس بات نے میرے دل کو بہت متاثر کیا، کیونکہ میری ازدواجی زندگی پر سکون نہ تھی، بات بات میں میری شوہر کے ساتھ ناچاقی اور جھگڑا ہو جاتا تھا، میں شوہر سے خفا ہو کر میکے چلی آئی تھی، جب وہی مجھے خاطر میں نہ لائے تو میں کیوں ان کو خاطر میں لاؤں، شوہر ہوئے تو کیا ہوا، کیا میں ان کی لونڈی بن گئی تھی، میرے ماں باپ مجھے سنبھال سکتے تھے تو میں کیوں ان سے دب کر رہوں اور جاہل عورتیں ہی مرد کی غلامی پسند کرتی ہیں، مجھے تو اس کے خیال ہی سے گھن آتی ہے اور ایسے الفاظ سے تو میری روح فنا ہو جاتی ہے۔ مردوں کی غلامی کا وقت اور دور ختم ہو چکا ہے یہ تو اپنے خیالات و عمل کی آزادی کا زمانہ ہے، سناپ نکل گیا مگر اس کے نشانات باقی رہ گئے، لہٰذا مردوں کو چاہئے کہ آنکھ اور کان کے پردے کھول ڈالیں اور امریکہ اور یورپ سے آزادی کا سبق سیکھیں، یہ میرے غلط خیالات تھے، لیکن اس بلند مرتبہ خاتون کی کہانی سن کر مجھ پر ندامت سوار ہوئی، میرا دل میرے قابو میں نہ رہا، مجھے اس پر رشک آیا کہ میں نے خاوند کی خدمت کیوں نہیں کی، میں کیوں یہ بلند مرتبہ حاصل نہیں کر سکی۔ میں ایک دم سے بے قابو ہو گئی اور مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور بے اختیار ہچکیاں لے لے کر رونے لگی، میری والدہ میری چیخ سن کر بیدار ہو گئیں میرے دونوں بیٹے عدنان اور فوزان بھی اٹھ گئے، والدہ نے کہا بیٹی بیٹی! کیا ہوا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟ میں گھبرا کر بیدار ہو گئی اور چونک کر اٹھ بیٹھی، ماں نے کہا: بیٹی! ہوش میں آ وضو کرکے بائیں طرف تھوک دے تو نے کیا خواب دیکھا ہے وہ میری چار پائی کے پاس آگئیں مجھے اپنے سینے سے لگا کر تسلی دینے لگیں اور بولیں کیا ڈر گئی اللہ خیر کرے تو نے خواب میں کیا دیکھا؟
میں نے خواب میں جو کچھ دیکھا تھا والدہ کو کہہ سنایا، اب نہ تو وہ میدان حشر تھا نہ وہ جنت کا منظر نہ وہ دربان تھا نہ وہ خاتون تھیں میں خواب بیان کر رہی تھی اور خوف زدہ ہو کر چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ ماں نے مجھے سینے سے لگاتے ہوئے کہا: بیٹی خواب کی باتیں سچ تھوڑی ہوتی ہیں تونے خواب ہی دیکھا ہے، ایسی باتوں کا اثر نہیں لینا چاہئے، چل دوبارہ سو جا! میرا دماغ ٹھکانے نہ تھا، طرح طرح کے خیالات میں مگن لیٹ گئی اور دوبارہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئی، کیا دیکھی ہوں کہ شادی کی محفل جمی ہوئی ہے اور لوگوں کی چہل پہل ہے بارات چلنے کی تیاری ہے میں نے اپنے خاوند کو دیکھا کہ وہ دولہا بنے ہوئے ہیں، میں دوڑ کر ان کے پاس پہنچ گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور غصے میں پوچھا یہ کیا تماشہ دیکھ رہی ہوں؟ لیکن انہوں نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور میرا ہاتھ بڑی بے دردی سے جھٹک دیا میں اپنے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ روتی بلکتی ہوئی ماں باپ کے گھر آگئی اور مجھے وہ جملہ یاد آگیا جو میرے شوہر مجھے اکثر کہا کرتے تھے۔ دیکھو زینب! اگر تم نے مجھے بہت ستایا تو میں دوسری شادی کر لوں گا، پھر تم بہت پچھتاؤ گی اور دیکھو زینب! تم سے شادی سے پہلے میں دنیا کا کام بھی صحیح کر لیتا تھا اور دین کا کام بھی، لیکن جب سے تم آئی ہو نہ میں دین کا کام اچھی طرح کر سکتا ہوں نہ دنیا کا۔آخر کار اس لڑکی کو طلاق ہو گئی۔
اب یہاں اگر والدہ محترمہ سمجھداری سے کام لیتیں تو اپنی بیٹی کو کہتی بیٹی آپ اپنے شوہر کے پاس واپس جاؤ اللہ نے تمہیں انجام دکھایا ہے خواب میں اپنی بیٹی کو خود چھوڑ کر آتی اس کے شوہر کے پاس اور سمجھاتی اپنی بیٹی کو کہ آئندہ کبھی اپنے شوہر کی نافرمانی مت کرنا۔ لیکن آج کل کا دور واقعی ہی بدل گیا ہے اس لیے پہلے دور کی نسبت آج کل کے دور میں طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ہم سب انگریزوں کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں تو انگریزوں میں تو سب حرام چیزیں جائز ہیں؟ انگریز مسلمانوں کو دیکھ دیکھ کر جلتے ہیں کہ ان کے ہاں اتنی زبردست رشتے داری کا نظام ہے اس لیے انہوں نے ہمیں اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ انگریزوں میں تو ماں، بہن، بھائی، باپ ، پھوپھی، خالہ یہ سب رشتے فضول ہیں۔ہمیں اللہ نے یہ سب رشتے تحفے میں دیئے ہیں ہم ان کی قدر نہیں کرتے اور انگریز کی سازش کو کامیاب کر رہے ہیں۔

Comments

comments